بار بار

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - گھڑی گھڑی، متواتر، پے در پے، کئی دفعہ۔ "میرے بار بار آنے کو دنیا کیا کہے گی۔"      ( ١٩٤٧ء، حرف آشنا، ٣٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بار' کی تکرار سے اردو میں 'بار بار' مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٠٧ء میں ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گھڑی گھڑی، متواتر، پے در پے، کئی دفعہ۔ "میرے بار بار آنے کو دنیا کیا کہے گی۔"      ( ١٩٤٧ء، حرف آشنا، ٣٤ )